کیا مصر ’’دوسرا پاکستان‘‘ بنتا جارہا ہے؟
Maamoun Fendi
عبوری حکمراں فوجی کونسل، اسلامی عناصر اور امریکی سفارت خانے کے چند ہفتوں کے تفاعل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شاید مصر بہت جلد دوسرے پاکستان میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ مصر اگر تبدیل ہوگا تو پاکستان میں کیوں تبدیل ہوگا، ترکی کیوں نہیں بنے گا؟ مصر کے عوام طویل مدت سے خواہش مند رہے ہیں کہ ترکی کو نمونے کے طور پر قبول کیا جائے اور اس کی پالیسیاں اپنائی جائیں۔ لوگوں کی خواہشات اپنی جگہ مگر مصر تو پاکستان ہی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے اور شاید پاکستان کا سب سے برا ورژن مصر میں سامنے آئے۔
مصر کی عبوری حکمراں سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی پاکستان میں ملٹری اتاشی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست تو سیاست دانوں کا کام ہے مگر فوج کو یہ حق ملا ہوا ہے کہ وہ جب چاہے، اقتدار کے ایوانوں میں سب کچھ بدل دے، پانسا پلٹ دے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ ریاستی امور اس قدر اہم ہیں کہ انہیں شہریوں کی صوابدید پر چھوڑا نہیں جاسکتا۔
پاکستان میں چالیس سال کے دوران کم و بیش ۲۰ سال فوج حکمراں رہی ہے۔ سیاسی مساوات میں فوج ہی قطب نما کا کام کرتی ہے۔
مصر میں امریکی سفیر این پیٹرسن بھی پاکستان میں ایسے وقت ایک سال تک سفیر کی حیثیت سے کام کرچکی ہیں جب نائن الیون کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خاصے کشیدہ تھے، اسلامی عناصر نے سر اٹھا رکھا تھا اور دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر آپریشن شروع ہوچکا تھا۔ این پیٹرسن نے جو کچھ پاکستان میں کیا وہی کچھ مصر میں بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت مصر کی صورت حال خاصی غیر متوازن اور غیر مستحکم ہے۔ وہ یقیناً اس بات کا انتظار کریں گی کہ سیاسی عناصر اس حد تک مستحکم اور متوازن ہو جائیں کہ امریکی مفادات کو اپنے ایجنڈے میں سموسکیں۔ مصر میں سلافی فرقے کی نور پارٹی اور اخوان المسلمون کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ایسے میں این پیٹرسن عمدگی سے اپنا کام کرسکتی ہیں کیونکہ وہ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی صورت حال میں اپنا کام عمدگی سے کرچکی ہیں۔
مصر میں عوام کا موڈ بدلتا دیکھ کر امریکہ نے بھی ابھرتے ہوئے اسلامی عناصر کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کیا۔ پہلے تو اس نے پاکستان میں خدمات انجام دیکر اسلامی عناصر سے بہتر طور پر نمٹنے کا تجربہ رکھنے والی این پیٹرسن کو مصر میں تعینات کیا اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصر کے اسلامی عناصر اور بالخصوص اخوان کے بارے میں انتخابات سے قبل مثبت بیانات دیئے، اُس پر اعتماد کا اظہار کیا۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اگر مصر میں اخوان کی سربراہی میں کوئی حکومت بنی تو امریکا اس سے بہتر معاملہ میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرے گا۔
مصر کے پاکستان میں تبدیل ہونے کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ۱۹۷۰ء کے بعد سے مصر کے اسلامی عناصر پاکستان کے مفکر مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی سوچ سے زیادہ متاثر ہیں۔ مولانا مودودیؒ فکری اعتبار سے حسن البناء کے مقابلے میں سید قطب سے زیادہ قریب ہیں۔
اسلامی نظریات عموماً عرب دنیا سے دیگر خطوں کی طرف گئے ہیں مگر سیاسی اسلام پسندی نے برصغیر میں جنم لیا اور وہاں سے یہ لہر عرب دنیا تک پہنچی ہے۔ مولانا مودودی کی فکر اس قدر غالب ہے کہ نئی عرب نسل یہ محسوس بھی نہیں کرتی کہ مولانا مودودیؒ غیر عرب ہیں۔
اہل علم و دانش ترک ماڈل کو سمجھنے پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اب پاکستان کے ماڈل پر غور کریں اور اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیں کیونکہ مصر کو پاکستان میں ڈھلنا ہے، ترکی میں نہیں۔
(مصنف کالم نگار اور سیاسی مبصر ہیں)
(بشکریہ: ’’المصر الیوم‘‘۔ ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۱ء)
