SachiBaat.jpg
سچی بات ۔کالموں کی زبانی
(سید فیاض الدین احمد)
Rs.220/=
NisabeTaleem.jgp
نصابِ تعلیم پر کاری وار
(کاشف حفیظ صدیقی)
Rs.140/=
Pakistan-Secularism.jpg
پاکستان اور سیکولراِزم
(احمد امام شفق ہاشمی)
Rs.90/=
اسلام میں بچوں کے حقوق اور تحفظ
(ڈاکٹر محمد اقبال خلیل)
Rs.70/=
TareekhTadveenoJamaaQuran.jpg
تاریخ تدوین و جمع قرآن
(محمد رضی الاسلام ندوی)
Rs.40/=
DolatmenKhudakaHaq.jpg
دولت میں خدا کا حق
(مولانا سید جلال الدین عمری)
Rs.20/=
انسٹال نستعلیق فونٹ

تعارف

اسلام کے عہد آفریں پیغام کے فروغ اور اسلام کے نظام کے قیام کے لیے جو جدوجہد مطلوب ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عصرِ حاضر کے مسائل و مشکلات کا تجزیہ کیا جائے ملتِ اسلامیہ کے دورِ زوال نے خود اسلام کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں انہیں رفع کیا جائے اور اسلامی نظام کے انسان پرور مبنی برحکمت اور سراپا خیر و برکت ہونے کو اچھی طرح واضح کیا جائے۔۔۔ اسی کے ساتھ یہ کہ دینِ حق کے افکار و علوم اور تصورات زندگی کو آج کے اسلوب بیان اور طرزِ ادا میں اس طرح پیش کیا جائے کہ آج کا عام انسان اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں دقت محسوس نہ کرے اور اس کے مقابلے میں غیراسلامی نظریات و تصورات کی غلطیاں اور تباہ کاریاں بھی اظہر من الشمس ہو جائیں۔ جولائی ۱۹۶۳ء میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی خواہش و کاوش سے چند اصحابِ علم و بصیرت جمع ہوئے اور انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں اسلام کے لیے کام کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس کے تحت ایک سوسائٹی ادارہ معارف اسلامی کے نام سے رجسٹر کروائی گئی۔ ۱۹۷۱ء تک ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) میں اس کی ایک شاخ قائم رہی۔ ۱۹۷۹ء میں ادارہ نے لاہور میں بھی کام شروع کیا اور اب یہ لاہور و کراچی میں بیک وقت خدمتِ دین کی سعی کر رہا ہے۔ اسلام کے عہد آفریں پیغام کے فروغ اور اسلام کے نظام کے قیام کے لیے جو جدوجہد مطلوب ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عصرِ حاضر کے مسائل و مشکلات کا تجزیہ کیا جائے ملتِ اسلامیہ کے دورِ زوال نے خود اسلام کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں انہیں رفع کیا جائے اور اسلامی نظام کے انسان پرور مبنی برحکمت اور سراپا خیر و برکت ہونے کو اچھی طرح واضح کیا جائے۔۔۔ اسی کے ساتھ یہ کہ دینِ حق کے افکار و علوم اور تصورات زندگی کو آج کے اسلوب بیان اور طرزِ ادا میں اس طرح پیش کیا جائے کہ آج کا عام انسان اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں دقت محسوس نہ کرے اور اس کے مقابلے میں غیراسلامی نظریات و تصورات کی غلطیاں اور تباہ کاریاں بھی اظہر من الشمس ہو جائیں۔ جولائی ۱۹۶۳ء میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی خواہش و کاوش سے چند اصحابِ علم و بصیرت جمع ہوئے اور انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں اسلام کے لیے کام کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس کے تحت ایک سوسائٹی ادارہ معارف اسلامی کے نام سے رجسٹر کروائی گئی۔ ۱۹۷۱ء تک ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) میں اس کی ایک شاخ قائم رہی۔ ۱۹۷۹ء میں ادارہ نے لاہور میں بھی کام شروع کیا اور اب یہ لاہور و کراچی میں بیک وقت خدمتِ دین کی سعی کر رہا ہے۔